نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

رمضان کیسے گذاریں

رمضان کیسے گذاریں Photo by: pexels.com جناب حضرت محمد مصطفیٰ نبی آخر زمان ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے جو کہ راہ ہدایت اور دنیا و آخرت کی بھلایوں کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ اس خزانے کو حاصل کرنے کیلئے اللہ رب کریم نے اُمت مسلمہ کو ماہ رمضان دیا ہے جس میں ہم دن کے 24 گھنٹے اور ہر ایک ایک لمحے میں جتنی نیکیاں کمانا چاہیں کما سکتے ہیں۔ الحمدللہ! ماہ رمضان کا آغاز ہوچکا ہے اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہم سے یہ برکتوں اور رحمتوں بھرا مہینہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔ ہمیں چاہیئے کہ اس مہینے میں   جتنا ہوسکے اپنے آپ سے وہ وہ کام لیں جو کہ ہم دوسرے مہینوں میں کرنے سے سستی کا شکار ہوتے ہیں۔ میں آپکی خدمت میں کچھ چند مفید مشورے عرض کرتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت اپنے حبیب کریم ﷺ کے صدقے آپکے اور ہمارے درجے بلند عطا فرمائے۔ آمین پہلا کام: ہماری شروعات صبح سے ہوتی ہے اور رمضان میں دن کی شروعات سحری سے ہوتی ہے۔ آپ سحری بناتے ہیں تو آپ کو 3.50 پر اٹھنا لازم ہے اور اگر آپ سحری کھانے والوں میں سے ہیں تو بھی آپکو 3:50 پر ہی اٹھنا چاہیئے۔ اٹھنے کے بعد مسواک ی...

گرافکس ڈزائنگ اور ڈرائینگ کا رشتہ

  گرافکس ڈزائنگ اور ڈرائینگ کا رشتہ ہماری پرائمری اسکول کی تعلیم میں جن استاذہ کا کردار شامل تھا ان میں سے سر عبداللہ شیدی ایک نامور شخصیت کے مالک تھے۔ ہمیں ان سے جو کچھ سیکھنے کو ملا ان میں سے ڈرائینگ سب سے اول تھی۔ مگر بہت سارے طلبہ ڈرائینگ کے مضمون کو شوق سے نہیں صرف کھیل کیلئے استعمال کرتے تھے۔ سر عبداللہ کی پوری کوشش تھی کہ جتنا ہو سکے اتنا بچوں میں ڈرائینگ کا شوق پیدا کیا جائے۔ مگر سوال یہ آتا ہے کہ بڑے ہوکر کیا بنو گے۔ ہمارے ہاں تو جواب ملتا ہے ڈاکٹر یا انجنیئر تو صاحب 35 سال پہلے بھی یہ ہی دور تھا اور اب بھی یہی دور ہے۔ نہ بدلا ہے تو ہماری سوچ نہیں بدلی۔ دنیا بدلی تو ہم کیا کریں صاحب ہم کو تو ہم ہی سے کام ہے۔ اس وقت ہم کلاس میں تقریبن 40 شاگرد ہوتے تھے جن میں لڑکیاں اور لڑکے دونوں ساتھ تھے۔ اتنی تعداد میں صرف 3 بچوں کی ڈرائینگ بہتر ہوتی تھی اور ان کو کام کرنے کا شوق ہوتا تھا۔ باقی 37 میں سے 1 میں اور 1 دوسرا دوست ہوتا تھا جو کہ ڈرائینگ میں تھوڑی بہت دلچسپی رکھتے تھے باقی 35 صاحب لوگ تھے۔ میں اُن استاد صاحب کا بہت شکر گذار ہوں جنہوں نے اپنی لگن سے ہمیں ڈرائینگ کا ہنر...

سلام سرکاری استاد جی

سلام سرکاری   استاد جی   میرے ملک میں سرکاری استاد کی حیثیت اسکرو پانے کی طرح ہے جہاں ضرورت ہو اور جب ضرورت ہو استعمال کرو اپنا کام نکالو اور پھر ایک جگہ پر یہ کہہ کر رکھ دو کہ اسے سنبھال کر رکہیں یہ کام کی چیز ہے کام آئی گی۔ اس میں ہنسنے والی کوئی بات نہیں آپ خود ہی دیکھ لیں۔ جب بھی ہماری حکومت کو کسی کام کو سرانجام دینے کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ استاد صاحبان سے اپنا کام کرواتے ہیں۔حکمران تو استاد جی کو استعمال کرنے میں اتنے بے فکر ہیں جتنے ہم اپنی گاڑی میں اسپیئر ٹائر موجود ہونے کے بعد بےفکر ہوجاتے ہیں۔ آئیئے آپ خود ہیں ملاحضہ فرمائیں کہ استاد جی کیا کیا کچھ نہیں کرسکتے ہیں:   الیکشن آگیا الیکشن کا موسم بھی بہار کی طرح ہوتا ہے کیونکہ ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے ۔ بہار میں تو ہریالی پودوں اور درختوں سے ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں الیکشن میں ہریالی پیسوں سے آتی ہے۔امیر امیدوار غریب کی محنت سے کمائے ہوئے پیسوں میں سے صرف چوانی کا حصہ غریب پر خرچ کرتا ہے اور بیچارہ غریب ناچ ناچ کر امیر کو جتواکر محل نمہ اسیمبلی میں پہنچا کر ہی دم لیتا ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ غری...

سر آپ کرسی پر بیٹھیں

  سر آپ کرسی پر بیٹھیں   ترقی یافتہ ممالک میں موٹر سائیکل جس کو آپ بائیک بھی کہتے ہیں کو شاھانہ سواری کہا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں ہم یا تو بڑی گاڑی خرید نہیں   سکتے اور خرید سکتے ہیں تو پھر ٹریفک کی بدترین صورتحال کی وجہ سے بہت سارے لوگ بائیک کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ میں بھی بائیک کو زیادہ ترجیح دیتا ہوں کہ سائیں تھوڑی سی جگہ ملی بون بون کرکے نکل جائیں گے۔ اور واقعی نکل جاتے ہیں بس آنے والی موسم سرمہ میں تھوڑی سی پریشانی ہوتی ہے جب بندہ ٹریفک میں پھنس جاتا ہے۔ کل جیسے ہی میں لنچ کے لئے بائیک پر نکلا تو دیکھا کہ اگلے ٹائر میں ہوا کم لگ رہی ہے اور جیسے ہی بائیک پر میری تشریف آوری ہوئی تو ٹائر آہستہ سے اور نیچے ہونے لگا۔ میں سمجھ گیا کہ یہ جناب پنکچر ہونے کو جا رہا ہے چلو بھاگو جلدی سے پنکچر والے کے پاس پہنچو ورنہ میں پنکچر ہو جاؤں گا۔ میں خیر و خوبی سے ٹائر پنکچر کی دکان پر پہنچ گیا۔ دکاندار نے سلام کیا اور میرے پوچھے بغیر کہ کیا ہوا ہے؟ بائیک کو بڑے اسٹینڈ پر کھڑا کیا اور ٹائر کو کھولنے کے لئے سامان ساتھ میں رکھے۔ مجھے اُس نے ایک پرانی سی تھوڑی ٹوٹی پھوٹی کرسی بڑے...

ماں نے کہا پارو کو چھوڑ دے

  ماں نے کہا پارو کو چھوڑ دے آپ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا ہے اور وہ جگہ 10 کلومیٹر دور ہو تو پھر آپ یقینن پیدل نہیں جائیں گے۔ ہاں اگر آپ کے پاس اپنی موٹر سائیکل یا کار وغیرہ ہے تو پھر سفر آسان رہے گا۔ دوسری صورت میں آپ کریم، اوبر یا بائیکیا جیسی سروس کو استعمال کرتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچیں گے۔ آپ نہ تو گدھا گاڑی پر جائیں گے اور نہ ہی کھوتا گاڑی کا استعمال کریں گے اور نہ ہی گھوڑا گاڑی پر سفر بخیر کریں گے۔ کیونکہ یہ بھی کسی دور کی شاہانہ سواریاں تھیں مگر اس وقت ان کا استعمال صرف دیہات میں ہوتا ہے وہ بھی صرف 5 فیصد باقی یا تو اپنی موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں یہ چنگچی نے سارا پلڑا ہی پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ میں ایک فری لانسر رائیٹر ہوں جس کو اپنی روزی روٹی کا سفر انٹرنیٹ کے ذریعے سے کرنا پڑتا ہے مگر میرے ساتھ بہت سارے ایسے فری لانسر ہیں جن کو اس وقت انٹرنیٹ کنیکشن میں شدید دشواری کا سامنہ ہے۔ اور ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ آپ نئے دور کو چھوڑیں آپ کار پر سفر کرنے کی بجائے گدھہ، گھوڑا گاڑی وغیرہ کا استعمال کریں کیونکہ یہ ماحول دوست ہیں۔ اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ میاں ...

واٹس ایپ آپکی پھچان ہے

  واٹس ایپ آپکی پھچان ہے   میرے بابا سائیں ایک چھوٹے زمیندار اور اس کے ساتھ ایک چھوٹے سیٹھ بھی ہیں۔ کہیے ماشاءاللہ! یہ تقریبا 2003 کی بات ہے جب میں بدین سے حیدرآباد کاروبار کے سلسلے میں ہفتے میں دو بار یا تین بار جایا کرتا تھا۔ جب سفر کیلئے روانہ ہوتا تو بابا کہتے تھے "راستے میں دیکھتے ہوئے جانا کے بڑی نہروں میں پانی کتنا ہے اور واپسی میں بتانا"۔ اس طرح میں پوری کوشش کرتا کہ وین میں شیشے کے برابر والی سیٹ بک کرواؤں۔ جہاں سے نہروں میں گذرتے ہوئے پانی کی مقدار چیک کروں کہ کونسی نہر کتنی بھری ہوئی جارہی ہے۔ اُس وقت میرے ذہن میں یہ سوال آتے تھے کہ میاں میرے پاس کوئی ایسا موبائل ہو جس میں انٹرنیٹ لگا ہوا ہو اور میں لائیو وڈیو یا وڈیو کال کرکے فورن اپنے بابا کو بتاؤں کہ آپ دیکھیں کہ پانی کی مقدار کیا ہے۔ اور اُس وقت وہ بھی خیال آتے تھے جن کو اُس وقت دوستوں کے سامنے بیان کیا جاتا تھا تو وہ خوب مذاق اڑاتے تھے کیوں کہ ہمارے ہاں صرف مذاق اڑانا ہی بہت بڑا کام ہے۔ مجھے اپنے آپ پر پکا یقین تھا کہ جس تیزی سے دنیا ترقی کر رہی ہے وہ دن بھی دور نہیں کہ آپ لائیو وڈیو کالنگ کر...

حاجی پھر بھی نہ بن سکے

  حاجی پھر بھی نہ بن سکے   میرے ملک کے لوگ عجیب روایتوں میں دھنسے ہوئے ہیں۔ ذرا ان کو کسی مضمون پر چھیڑ کر تو دیکھیں پھر پتہ لگے گا کہ ان کے پاس کتنا علم ہے اور دوسرے ملکوں کے باشندوں کے پاس کیا ہے؟ آپکو ہر محلے یا گلی کی چوکھٹ پر بیٹھے بوڑھے اور جوان کسی نہ کسی بحث میں مبتلا ضرور دکھائی دیں گے اوراس بحث کا نتیجہ گھوم پھر کر یہ نکلے گا کہ ہمارے حکمران نا اہل ہیں۔ ہاں یہ دوسری بات ہے کہ ہم سارا کا سارا قصورحکمرانوں پر چھوڑ دیتے ہیں اور خود وہیں کے وہیں ہی کھڑے رہتے ہیں۔ کہا تو یہ جاتا ہے کہ حکمران مغرب میں بڑے بڑے محل بنواتے ہیں اورملک کی جمہ پونجی یہاں سے لے جاتے ہیں اور بدلے میں ان کی اولادیں عوام پر حکومت کرتی ہیں پھر جب وہ بھی بزرگ ہونے لگتے ہیں تو ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور یوں ہی یہ سلسلہ گذشتہ 75 سالوں سے شاد و آباد ہے۔ میرے ملک سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں فریضہ حج ادا کرنے کے لئے حاجی صاحبان سعودی عرب جاتے ہیں۔ اس وقت حج ادا کرنے میں کتنی رقم لگتی ہے وہ آپ حاجیوں سے ہی معلوم کرلیں توبہتر رہے گا۔ آپ کتنا خرچہ کرکے جاتے ہیں اور وہ رقم کہاں سے لاتے ہیں یہ...