نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جون, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

یوٹیوبرز بھیک نہ مانگو

  یوٹیوبرز بھیک نہ مانگو اللہ رب العزت نے اپنے حبیب کریم جناب حضرت محمد مصطفیٰ نبی آخر زمان ﷺ کی طفیل مجھ ناچیز کو بہت ساری نعمتوں سے مالا مال کیا ہے۔ جس میں سب سے بڑی دولت علم کی عطا فرمائی ہے اور میں اللہ سائیں کی بارگاھ الاھی میں سربسجود ہوکر اپنے رحمت اللعالمین ﷺ کی ذات اقدس کے واسطے دعاگو ہوں کہ اللہ سائیں مجھے جو بھی علم عطا فرمائیں اسے بانٹنے کی بھی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین! میں اپنےفارغ وقت میں کتابیں پڑھنا اور اپنے سوشل میڈیا کے اکائونٹس چیک کرتا رہتا ہوں ہاں اگر مزید وقت مل جائے تو یوٹیوب کھول لیتا ہوں کہ زمانہ کیا کر رہا ہے۔ جب میں یوٹیوب کھولتا ہوں تو اُس وقت کسی نہ کسی وڈیو کے ساتھ دوسری کوئی وڈیو منسلک ہوتی ہے اور جیسے ہی کھولا جاتا ہے تو یہ ذیل عالم ہوتا ہے ۔۔۔۔ "ہیلو دوستو! میں ہوں اے بی سی خان وڈیو کو آگے بڑہانے سے پہلے، میری آپ سے گذارش ہے کہ اگر آپ میرے چینل پر نئے ہیں تو برائے مہربانی کرکے اس چینل کو سبسکرائیب کریں اور بیل آئیکن کو پریس کریں تو ہماری ہر آنے والی وڈیو کا نوٹیفکیشن آپ کے پاس آجائیگا تو چلئے آگے بڑہتے ہیں۔" جیسے ہی یہ صاحب بولتے ہی...

ڈگریاں کام نہیں آئیں

ڈڈگریاں کام نہیں آئیں آپ نے اکثر ٹرکوں اور بڑی گاڑیوں کے پیچھے یہ جملہ ضرور پڑھا ہوگا کہ "ہمت ہے تو کراس کر ورنہ برداشت کر"۔ یہ جملا سب سے پہلے کس نے تخلیق کیا یہ میں نہیں جانتا مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ یہ جملا ضرور کسی نہ کسی پرائمری پاس پینٹر نے کیا ہوگا جو کہ بڑی گاڑیوں کو چاروں طرف سے نقش و نگار بناتا ہے مگر ان بیچاروں کے پاس کسی کالج یا یونیورسٹی کی کوئی بھی ڈگری نہیں ہوتی۔ یہ بچپن کی عمر میں صرف اپنا پیٹ بھرنے کیلئے کسی نہ کسی مزدوری پر نکل پڑتے ہیں اور چھوٹے بن جاتے ہیں۔ او چھوٹے ایدھر آ، او چھوٹے یہ نٹ نکال، او چھوٹے دودھ پتی چائے بول کر آ، او چھوٹے گھر سے کھانا لے کر آ، او چھوٹے یہ کر، او چھوٹے یہ نا کر۔ بس چھوٹا یہ وہ کرتے کرتے ایک دن "استاد جی" بن جاتا ہے اور اس کے پاس اور چھوٹے کام کرنے والے آجاتے ہیں۔ میرے بابا گائوں کے ایک اسکول میں پڑھے اور صرف پرائمری تک تعلیم حاصل کی۔ بابا کے ابا یعنی میرے دادا سائیں ایک چھوٹے زمیندار تھے تو ان کے کام کاج بابا کو سنبھالنے پڑ گئے۔ بابا کو ویسے بھی پڑھائی لکھائی کا شوق نہیں تھا تو وہ جب لکھنے پڑھنے کا کام چھوڑ...

پیٹرول کو آگ لگادو

پیٹرول کو آگ لگادو آئی ایم ایف کیا ہوئی، یہ تو ساس سے بھی زیادہ کام لے رہی ہے، کم بخت راضی ہی نہیں ہو رہی، ہمارے بڑے صاحبان ایک کمزور بہو کی طرح سر جھکائے کھڑے ہیں اور یہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر آرڈر پر آرڈر دیتی جارہی ہے۔ ہاں ویسی بھی اگر گھر میں ساس اور بہو کی لڑائی ہوجائے تو سانس گھر والوں کی اٹک جاتی ہے اور پورے گھر کا ماحول بگڑ جاتا ہے۔ اُس وقت تک حالات قابو میں نہیں آتے جب تک ساس کی فرمائشیں پوری نہ ہو جائیں۔ ہم عوام بھی ان گھر والوں کی طرح ہیں جو کہ ان بہو یعنی حکومت اور ساس یعنی آئی ایم ایف کے بیچ میں آٹے کی طرح پس رہے ہیں۔ اور نہ بہو کو رحم آتا ہے اور نہ ہی ساس کوئی سانس لینے دیتی ہیں۔ ہم ہیں کہ پسے ہی جا رہے ہیں۔ باہر کے ملکوں میں اگر پیٹرول کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں تو شہری اپنی گاڑیاں سڑکوں پر لاکر کھڑی کر دیتے ہیں اور حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں کم کی جائیں اور اگر ہمارے ہاں پیٹرول کی قیمت بڑہنے لگتی ہے تو گلی کے لڑکے واٹس ایپ گروپس میں خبر دیتے ہیں کہ گلو میاں جلدی سے گاڑی یا ڈبہ لیکر پیٹرول پمپ پہنچو آج رات پیٹرول بڑھ رہا ہے۔ پیٹرول کیوں بڑھ رہا ہے، کہاں ...

صرف ایک اسکول الیکشن تک

  صرف ایک اسکول الیکشن تک   جون کا مہینہ ایک تو گرم ہوتا ہے اوپر سے بلدیاتی الیکشن کا موسم آگیا ہے۔ بچے گرمیوں کی چھٹیاں مناہ رہے ہیں اور امیدوار اپنی الیکشن مہم چلا رہے ہیں۔   بچے جب واپس اپنے اسکولوں باالخصوص سرکاری اسکولوں میں واپس جائیں گے، تو وہاں ان کو وہ ہی ٹوٹا پھوٹا اسکول اور مشکلاتوں سے گھرہ ماحول ملے گا، جس کو یہ دو ماہ پہلے چھوڑ کر نکلے تھے۔ اور امیدوار، ان سرکاری اسکولوں میں بننے والی پولنگ اسٹیشنوں سے منتخب ہوکر بڑے عالیشان اسیمبلیوں میں پہنچیں گے۔   سب سے حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ یہ جناب جن سرکاری اسکولوں کو پولنگ اسٹیشن بناکر وہاں سے منتخب ہوتے ہیں، واپسی انہی اسکولوں کی ترقی کیلئے صرف ایک فیصد بھی کام نہیں کرتے۔ ہمیں تو لگتا ہے اسکول نہیں ٹشو پیپر ہیں جس کو ایک بار استعمال کرکے پھینک دیا جاتا ہے۔   ہر الیکشن میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ جاندار نعرے لگتے ہیں اور واپسی میں کھوکھلے واعدے کیئے جاتے ہیں۔اس بار جب بھی کوئی امیدوار اپنے علائقے میں جاتا ہے تو ان صاحبوں سے براہ راست تعلیم اور صحت کے نعرے لگتے ہیں۔ اس بار ان کی بھی آنکھیں کھلی ہیں ک...

ٹھٹھہ اب تعلیمی درسگاھ نہیں رہا!

ٹھٹھہ اب تعلیمی درسگاھ نہیں رہا! سندھ کی ساحلی پٹی پر بسنے والا شہر ٹھٹھہ کا ماضی جتنا شاندار تھا آج اتنا ہی تباھ و برباد ہوچکا ہے۔ ایچ ٹی سورلی اپنی کتاب شاہ لطیف آف بھٹ میں لکھتے ہیں "سترویں صدی کا دورہ حکومت مغل خاندان کے پاس تھا اور 1835ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے لاھری بندر ٹھٹھہ سے سندھ میں اپنا کاروبار شروع کیا۔ اُن دنوں میں یہ شہر سندھ کا دارالحکومت تھا اور سب سے بڑا و شاندار کاروباری مرکز تھا۔ اُس وقت 3000 سے زائد چھوٹے بڑے کپڑے بنانے کے کارخانے، چمڑے بنانے کے کارخانے، فرنیچر بنانے کے کارخانے، بیل گاڑی اور تانگے بنانے کے مشہور کارخانے اور سب سے اہم بات 400 سے زائد مدرسے ہوا کرتے تھے"۔ شہر میں بننے والا تیار شدہ یا خام مال یورپ اور دوسرے ملکوں تک جاتا تھا اور تعلیمی درسگاھوں سے تعلیم حاصل کرنے والے تعلیم مکمل کرکے اپنے وطن واپس لوٹ کر دوسروں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے تھے۔ سندھی زبان کی آج کی صورتخطی کا بنیاد بھی ٹھٹھہ کے مشہور عالم دین مخدوم ابوالحسن نے رکھا تھا۔ جس کو انیسویں صدی میں انگریزوں نے زیر غور لاکر مقامی ادیبوں کی مشاورت کے بعد 1870 میں موجودہ سندھی...

مجھے اس دن کا انتظار تھا!

  مجھے اس دن کا انتظار تھا! اللہ رب العزت نے اپنے پیارے حبیب کریم جناب حضرت محمد مصطفیٰ نبی آخر زمان ﷺ کے صدقے ہمیں یعنی مجھے، سندھو، سگندہ اور مھمیر کو بہت ساری نعمتوں سے نوازا ہے جس کا ہم اللہ سائیں کی بارگاھ الاھی میں سربسجود بے حد شکر گذار ہیں۔ ہم پُر امید ہیں کہ اللہ سائیں نے اپنے پیارے حبیب کریم ﷺ کے طفیل ہمیں اپنے شکر گذار بندوں میں شمار رکھا ہوگا اور ہم پناھ مانگتے ہیں ناشکروں سے اور ان کے شر سے اور اس بات سے بھی کہ ہم کبھی ناشکرے ہوں۔ آج کے دن میں 40 سال کا ہو گیا ہوں اور یہ 40 سال کیسے گذر گئے پتہ ہی نہیں۔ لگتا تو ایسے ہے جیسے کل آئے تھے اور آج 40 کے ہوگئے ہیں۔ اس دن کا مجھے بچپن سے انتظار تھا وہ اس لیئے کہ ہمارے پیاری نبی آقا رحمت العالمین ﷺ نے اپنا مشن نبووت 40 سال کی زندگی گذارنے کے بعد ہی کیا تھا۔ میری خواہش تھی کہ میں اپنی زندگی کے 40 سال کو بخوبی گذاروں اور یہ میری سنت نبوی ﷺ بھی پوری ہو اور الحمدللہ وہ بھی آج پوری ہوگئی ہے۔ میرے پاس نہ ہی آپکو کچھ دینے کیلئے ہے سوائے دعائوں کے اور نہ ہی میں کوئی ایسا بڑا آدمی بن گیا ہوں جس نے بہت سارے بڑے بڑے کام کیئے ہوں...