نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

اکتوبر, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

وہ دودھ آپکا نہیں تھا

  وہ دودھ آپکا نہیں تھا ہم جس دودھ والے سے دودھ خریدتے ہیں وہ اصل میں دودھ والا نہیں ہے مگر حالات کی وجہ سے دودھ بیچ رہا ہے۔   اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آپکی روزی کہیں نہ کہیں ضرور لکھی ہوئی ہے۔ ہاں اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپکو اپنی روزی کو حلال کرکے کمانا چاہتے ہیں یا حرام کماکر کھانا چاہتے ہیں۔   ہمارے دودھ والے کی تو کوئی بھی بکری، گائے اور نہ ہی بھینس اپنی ہے۔ اسکی اپنی ہے تو وہ صرف ایک عدد بائیک ہے جس پر یہ جناب مختلف چھوٹے دیہاتوں و جگہوں سے کیش رقم پر دودھ خرید کر شہر میں ادھار پر یا کیش رقم پر دودھ فروخت کرتا ہے۔   آپ اس کو اپنی زبان میں Affiliate Marketing بھی کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ اپنی کوئی انویسٹمنٹ کئے بغیر مختلف جگہوں سےدودھ لیتے ہیں اور اس پر اپنا منافعہ رکھ کر دودھ بیچ دیتا ہے یا بھیج دیتا ہے۔   ہم جو دودھ خریدتے ہیں وہ گائے کا دودھ ہوتا ہے۔ وہ اس لیئے کہ سب سے بہترین دودھ بکری کا ہے پھر گائے کا ہے پھر بھینس کا ہے۔   یہ تفریق صحت کے اصولوں کے تحت غذائی ماھرین نے بنائی ہے۔ بکری کا دودھ غذائی اعتبار سے بہت مفید ہے۔ ...

ایک بڑا کیلا مفت میں ۔۔۔

  ایک بڑا کیلا مفت میں ۔۔۔ اللہ رب کریم نے انسان کیلئے بہت ساری نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ مگر کیا کیجئے کہ انسان ان تمام نعمتوں کا احسان اور شکر نہیں کرتا۔ بس اکثر زبانوں پر آپ نے شکایت بلکہ شکایتیں ہی سنی ہونگی۔   مالک کائنات نے انسان کے کھانے پینے کیلئے جو نعمتیں پیدا کی ہیں۔ اس میں سے فروٹ ایک بڑی نعمت ہے جو کہ کھانے میں بھی فرحت بخش ہے اور جسم کو اینرجی فراہم کرنے میں بھی معاون کردار ادا کرتا ہے۔   ہم جس فروٹ کی بات کرتے کررہے ہیں اس کا نام کیلا ہے۔ اب یہ کیلا نام کس شخصیت نے رکھا ہے وہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے مگر ہے بڑا کمال کا نام واحد بناؤ تو کیلا اور جمع کرو تو کیلے۔   میری قوم کی صفائی ستھرائی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس فروٹ کی سب سے بڑی خاصیت جو مجھے بہترین لگتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کو کھانے کیلئے آپ کو اسے صاف پانی سے دھونا نہیں پڑتا اور نہ ہی آپ کو صاف پانی سے اپنے ہاتھوں کو دھونا پڑتا ہے۔   میرے دیس میں صاف پانی کی بہت زیادہ کمی ہے اس لیئے یہ کیلا صاحب آپ کو خریدنے، کھانے اور بھوک مٹانے میں معاون مددگار ہے۔   اس لیئے میرا مشورہ ہے کہ...

20 روپے کا ایک گدھا

  20 روپے کا ایک گدھا آپ نے یقینن یہ محاورہ تو سنا ہوگا 10 روپے کی برف اور 50 روپے کی گدھا گاڑی۔ جس کا مطلب ہے کہ آپ اگر کوئی سامان خرید رہے ہیں تو اس سامان کی قیمت سے زیادہ اس کو ساتھ لے جانے میں کرایہ لگتا ہے۔   اگر آپ محلے کی کسی دکان سے کوئی خریداری کر رہے ہیں تو دکاندار آپکو سامان پلاسٹک کے تھیلے میں لگاکر دیتے ہیں۔   اگر آپ بائیک پر ہیں تو پھر آپ یقینن دکاندار سے فرمائش کرتے ہیں کہ جناب تھیلی ڈبل کر دیں میں بائیک پر ہوں۔   اب تو چھوٹے دکانداروں کی بھی عادت سی ہوگئی ہے کہ وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ بائیک پر ہیں؟ اگر آپکا جواب ہاں میں ہے تو وہ آپ کی ڈمانڈ سے پہلے ہی آپ کے سامان کو ڈبل تھیلے میں پیک کر دیتے ہیں!   اب آتے ہیں Branded Outlets پر جن کو عام پاکستانی "مھنگی دکان" کا خطاب دیتے ہیں۔ مھنگی دکان والوں کی کچھ تعداد ایک Marketing Tool استعمال کر رہی ہے۔ مگر میری نظر میں یہ ٹول Demarketing ہے۔   آپ کسی بھی ایسے برانڈیڈ دکان سے کوئی چیز خریدتے ہیں تو سامان آپ کو نائیلون کے تھیلے میں دیا جاتا ہے جس کی قیمت 20 روپے یا زیادہ بھی لی ...