واٹس ایپ آپکی پھچان ہے میرے بابا سائیں ایک چھوٹے زمیندار اور اس کے ساتھ ایک چھوٹے سیٹھ بھی ہیں۔ کہیے ماشاءاللہ! یہ تقریبا 2003 کی بات ہے جب میں بدین سے حیدرآباد کاروبار کے سلسلے میں ہفتے میں دو بار یا تین بار جایا کرتا تھا۔ جب سفر کیلئے روانہ ہوتا تو بابا کہتے تھے "راستے میں دیکھتے ہوئے جانا کے بڑی نہروں میں پانی کتنا ہے اور واپسی میں بتانا"۔ اس طرح میں پوری کوشش کرتا کہ وین میں شیشے کے برابر والی سیٹ بک کرواؤں۔ جہاں سے نہروں میں گذرتے ہوئے پانی کی مقدار چیک کروں کہ کونسی نہر کتنی بھری ہوئی جارہی ہے۔ اُس وقت میرے ذہن میں یہ سوال آتے تھے کہ میاں میرے پاس کوئی ایسا موبائل ہو جس میں انٹرنیٹ لگا ہوا ہو اور میں لائیو وڈیو یا وڈیو کال کرکے فورن اپنے بابا کو بتاؤں کہ آپ دیکھیں کہ پانی کی مقدار کیا ہے۔ اور اُس وقت وہ بھی خیال آتے تھے جن کو اُس وقت دوستوں کے سامنے بیان کیا جاتا تھا تو وہ خوب مذاق اڑاتے تھے کیوں کہ ہمارے ہاں صرف مذاق اڑانا ہی بہت بڑا کام ہے۔ مجھے اپنے آپ پر پکا یقین تھا کہ جس تیزی سے دنیا ترقی کر رہی ہے وہ دن بھی دور نہیں کہ آپ لائیو وڈیو کالنگ کر...