نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جنوری, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

واٹس ایپ آپکی پھچان ہے

  واٹس ایپ آپکی پھچان ہے   میرے بابا سائیں ایک چھوٹے زمیندار اور اس کے ساتھ ایک چھوٹے سیٹھ بھی ہیں۔ کہیے ماشاءاللہ! یہ تقریبا 2003 کی بات ہے جب میں بدین سے حیدرآباد کاروبار کے سلسلے میں ہفتے میں دو بار یا تین بار جایا کرتا تھا۔ جب سفر کیلئے روانہ ہوتا تو بابا کہتے تھے "راستے میں دیکھتے ہوئے جانا کے بڑی نہروں میں پانی کتنا ہے اور واپسی میں بتانا"۔ اس طرح میں پوری کوشش کرتا کہ وین میں شیشے کے برابر والی سیٹ بک کرواؤں۔ جہاں سے نہروں میں گذرتے ہوئے پانی کی مقدار چیک کروں کہ کونسی نہر کتنی بھری ہوئی جارہی ہے۔ اُس وقت میرے ذہن میں یہ سوال آتے تھے کہ میاں میرے پاس کوئی ایسا موبائل ہو جس میں انٹرنیٹ لگا ہوا ہو اور میں لائیو وڈیو یا وڈیو کال کرکے فورن اپنے بابا کو بتاؤں کہ آپ دیکھیں کہ پانی کی مقدار کیا ہے۔ اور اُس وقت وہ بھی خیال آتے تھے جن کو اُس وقت دوستوں کے سامنے بیان کیا جاتا تھا تو وہ خوب مذاق اڑاتے تھے کیوں کہ ہمارے ہاں صرف مذاق اڑانا ہی بہت بڑا کام ہے۔ مجھے اپنے آپ پر پکا یقین تھا کہ جس تیزی سے دنیا ترقی کر رہی ہے وہ دن بھی دور نہیں کہ آپ لائیو وڈیو کالنگ کر...

حاجی پھر بھی نہ بن سکے

  حاجی پھر بھی نہ بن سکے   میرے ملک کے لوگ عجیب روایتوں میں دھنسے ہوئے ہیں۔ ذرا ان کو کسی مضمون پر چھیڑ کر تو دیکھیں پھر پتہ لگے گا کہ ان کے پاس کتنا علم ہے اور دوسرے ملکوں کے باشندوں کے پاس کیا ہے؟ آپکو ہر محلے یا گلی کی چوکھٹ پر بیٹھے بوڑھے اور جوان کسی نہ کسی بحث میں مبتلا ضرور دکھائی دیں گے اوراس بحث کا نتیجہ گھوم پھر کر یہ نکلے گا کہ ہمارے حکمران نا اہل ہیں۔ ہاں یہ دوسری بات ہے کہ ہم سارا کا سارا قصورحکمرانوں پر چھوڑ دیتے ہیں اور خود وہیں کے وہیں ہی کھڑے رہتے ہیں۔ کہا تو یہ جاتا ہے کہ حکمران مغرب میں بڑے بڑے محل بنواتے ہیں اورملک کی جمہ پونجی یہاں سے لے جاتے ہیں اور بدلے میں ان کی اولادیں عوام پر حکومت کرتی ہیں پھر جب وہ بھی بزرگ ہونے لگتے ہیں تو ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور یوں ہی یہ سلسلہ گذشتہ 75 سالوں سے شاد و آباد ہے۔ میرے ملک سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں فریضہ حج ادا کرنے کے لئے حاجی صاحبان سعودی عرب جاتے ہیں۔ اس وقت حج ادا کرنے میں کتنی رقم لگتی ہے وہ آپ حاجیوں سے ہی معلوم کرلیں توبہتر رہے گا۔ آپ کتنا خرچہ کرکے جاتے ہیں اور وہ رقم کہاں سے لاتے ہیں یہ...

ڈالر والی مرغی

  ڈالر والی مرغی   آپ جو انڈے خریدتے ہیں ان کے دو کلر ہوتے ہیں۔ سفید انڈا ہو تو وہ ولایتی مرغی کا ہوگا اور ہلکا اورینج ہو تو وہ دیسی ہوگا۔ انڈہ سفید ہو یا اورینج ہو مگر قدرت کے رنگ بھی بڑے نرالے ہیں۔ سوچیں! اگر یہ ہی انڈہ باہر سے ہلکا کالے رنگ کا ہوتا تو آپ میں سے بہت سارے لوگ اس کو خریدنے اور کھانے میں جھجھکچاہٹ محسوس کرتے یا تو بہت سارے کھاتے ہی نہیں۔ اس لئے قدرت کی ہر پیکنگ پر دھیان دیں۔ بالخصوص وہ افراد جن کا کام ڈزائیننگ اور رنگوں سے وابستہ ہے۔ اسکے بعد آپکو اپنا کام آسان لگے گا۔ اللہ کریم کا شکر ادا کریں اور پھر اپنے کام کو خوبصورت طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔ اللہ رب کریم نے قرآن حکیم کی مشہور و معروف سورہ رحمان کی حکمت بھری آیت میں ہی فرمایا ہے "تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟" آپ کسی دکان پر انڈے خریدنے جاتے ہیں تو دکاندار کو کہتے ہیں بھیہ "ایک درجن انڈے دو" اور دکاندار آپکو خوشی خوشی انڈے دے دیتا ہے۔ مگر اس جملوں کی لین دین میں آپ دکاندار سے کیا کہہ رہے ہیں اور وہ آپکو جوچیز خوشی خوشی دے رہا ہے وہ اس کے اپنے تو نہیں ہیں ن...

آج جانے کی ضد نہ کرو

آج جانے کی ضد نہ کرو   آپ ہر سال آتے ہیں تو ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے مگر اس سال اتنی خوشی نہیں ہو رہی جتنی ہونی چاہیئے تھی۔ ہم خوشیاں ڈھونڈ، ڈھونڈ کر تھک گئے ہیں۔ بلکہ اس طرح جیسے عابدہ پروین کے کلام میں ہے کہ "ڈھونڈو گے ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم"۔ جی بلکل ایسے ہی تم بھی نایاب ہو ہمارے لئے۔ ہمارے اور تمہارے اس سفر کو 75 سال ہوگئے ہیں مگران سالوں میں ہم ہر بار یہ امید لگالیتے ہیں کہ اس سال تم آؤ گے ساجنا، انگنا پھول کلھیں گے۔ مگر نہ ہی وہ تم آتے ہو اور نہ ہی پھول کھلتے ہیں۔ ہماری مسکراہٹیں دھرنوں کے حوالے ہوگئی ہیں۔ جہاں دیکھو لوگ کسی نہ کسی مسئلے کو حل کروانے کے لیئے دھرنا دے بیٹھے ہیں۔ ہمارا بھی دل چاہتا ہے کہ ہم بھی آپ کے خلاف ایک دھرنا دیں۔ جس میں یہ مطالبہ رکھیں کہ آپ نہ جاؤ اور نیا نہ آئے۔ وہ اس لیئے کہ آپ جب آتے ہو تو ہمیں بہت ساری امیدیں ہوتی ہیں کہ آپ کے آنے سے ہم خوشحالی کی طرف بڑہیں گے۔ مگر آپ کے جانے کے بعد جو نیا آتا ہے وہ آپ سے بہت زیادہ تکلیف دیتا ہے اور ہماری آسیں اور امیدیں ایک بارپھر ٹوٹ جاتیں ہیں۔ مگر کیا کیجئے محبت کے سوا اس زمانے...