نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

آج جانے کی ضد نہ کرو

آج جانے کی ضد نہ کرو

 


آپ ہر سال آتے ہیں تو ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے مگر اس سال اتنی خوشی نہیں ہو رہی جتنی ہونی چاہیئے تھی۔

ہم خوشیاں ڈھونڈ، ڈھونڈ کر تھک گئے ہیں۔ بلکہ اس طرح جیسے عابدہ پروین کے کلام میں ہے کہ "ڈھونڈو گے ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم"۔

جی بلکل ایسے ہی تم بھی نایاب ہو ہمارے لئے۔ ہمارے اور تمہارے اس سفر کو 75 سال ہوگئے ہیں مگران سالوں میں ہم ہر بار یہ امید لگالیتے ہیں کہ اس سال تم آؤ گے ساجنا، انگنا پھول کلھیں گے۔

مگر نہ ہی وہ تم آتے ہو اور نہ ہی پھول کھلتے ہیں۔ ہماری مسکراہٹیں دھرنوں کے حوالے ہوگئی ہیں۔ جہاں دیکھو لوگ کسی نہ کسی مسئلے کو حل کروانے کے لیئے دھرنا دے بیٹھے ہیں۔

ہمارا بھی دل چاہتا ہے کہ ہم بھی آپ کے خلاف ایک دھرنا دیں۔ جس میں یہ مطالبہ رکھیں کہ آپ نہ جاؤ اور نیا نہ آئے۔

وہ اس لیئے کہ آپ جب آتے ہو تو ہمیں بہت ساری امیدیں ہوتی ہیں کہ آپ کے آنے سے ہم خوشحالی کی طرف بڑہیں گے۔

مگر آپ کے جانے کے بعد جو نیا آتا ہے وہ آپ سے بہت زیادہ تکلیف دیتا ہے اور ہماری آسیں اور امیدیں ایک بارپھر ٹوٹ جاتیں ہیں۔

مگر کیا کیجئے محبت کے سوا اس زمانے میں اور بھی غم ہیں کی طرح ہم اتنے گئے گذرے ہوگئے ہیں کہ پھر سے چارج ہوکر نئے آنے والے کا گرم جوشی سے استقبال کرتے ہیں۔

ہمارے لیئے آپ، آپ ہیں اور ہمارے لیئے ہم، ہم ہیں۔ اصل میں قصور آپکا نہیں ہے، ہمیں اتنا لوٹا گیا ہے کہ اب لٹانے کے لئے کچھ بچہ ہی نہیں۔

جب آپ آئے تھے تو دنیا ترقی کی نئی منزلوں کو چھو رہی تھی اور جب جا رہے ہو تووہ ترقی کی منزلوں کا راستہ لے کر چل پڑی ہے۔

اور ہم ہیں کہ ترقی کیا ہوتی ہے اس کا صرف نام ہی سنا ہے۔ بس ایک جھالت کا جھنگل ہے جس میں لگاتار گھوم رہے ہیں اس امید کے سہارے کے کوئی ہمیں اس سے باہر نکالے گا۔

ہم کتنے بے وقوف ہیں نہ کہ 75 سال گذرنے کے بعد بھی کسی مسیحیٰ کے انتظار میں بیٹھے ہیں کہ وہ آئے گا اور ہمیں یہاں سے باہر نکالے گا۔

جس دن ہم نے یہ طئے کر لیا کہ ہمیں اپنی ہمت کرکے یہاں سے باہر نکلنا ہوگا تو یقین کریں اس دن ہمیں جھالت کے جھنگل سے نکلے سے کوئی دنیاوی طاقت نہیں روک سکتی۔

بس ہمارے پاس یہ ایک ہی چیز ہے جسے آپ امید کہیں یہ کوئی اور نام دیں یہ ہی بچی ہے اور آپ جانا چاہو تو بھلے چلے جاؤ۔

کیوں کہ آپ کو روکنے کی نہ ہم میں ہمت ہے اور نہ ہی طاقت ہے۔ آپ بھلے چلے جائیں ہماری قسمت ہم سے ہے۔

ہم بھی ہار ماننے والے نہیں ہیں بلکہ ایسے جیسے "چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ" میں نا مانوں ہار، ہمت ہے تو کراس کر ورنہ برداشت کر، ہم چلے دشمن جلے جیسے اور کئی جملے ابھی تو پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں کے پیچھے لکھے ہوئے ملیں گے۔

مگر جس دن ان جملوں کی سمجھ آئے گی اس دن ہم ہم نہیں رہیں گے اور تم تم نہیں رہو گے۔

آپ جانے والے ہو آپکا نام 2024 ہے اور نیا آرہا ہے جس کا نام 2025 ہے اور ہمارا نام امید ہے۔

 

 

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

وہ دودھ آپکا نہیں تھا

  وہ دودھ آپکا نہیں تھا ہم جس دودھ والے سے دودھ خریدتے ہیں وہ اصل میں دودھ والا نہیں ہے مگر حالات کی وجہ سے دودھ بیچ رہا ہے۔   اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آپکی روزی کہیں نہ کہیں ضرور لکھی ہوئی ہے۔ ہاں اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپکو اپنی روزی کو حلال کرکے کمانا چاہتے ہیں یا حرام کماکر کھانا چاہتے ہیں۔   ہمارے دودھ والے کی تو کوئی بھی بکری، گائے اور نہ ہی بھینس اپنی ہے۔ اسکی اپنی ہے تو وہ صرف ایک عدد بائیک ہے جس پر یہ جناب مختلف چھوٹے دیہاتوں و جگہوں سے کیش رقم پر دودھ خرید کر شہر میں ادھار پر یا کیش رقم پر دودھ فروخت کرتا ہے۔   آپ اس کو اپنی زبان میں Affiliate Marketing بھی کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ اپنی کوئی انویسٹمنٹ کئے بغیر مختلف جگہوں سےدودھ لیتے ہیں اور اس پر اپنا منافعہ رکھ کر دودھ بیچ دیتا ہے یا بھیج دیتا ہے۔   ہم جو دودھ خریدتے ہیں وہ گائے کا دودھ ہوتا ہے۔ وہ اس لیئے کہ سب سے بہترین دودھ بکری کا ہے پھر گائے کا ہے پھر بھینس کا ہے۔   یہ تفریق صحت کے اصولوں کے تحت غذائی ماھرین نے بنائی ہے۔ بکری کا دودھ غذائی اعتبار سے بہت مفید ہے۔ ...

دکھائی قطرینہ بھیجی حکیماں

دکھائی قطرینہ بھیجی حکیماں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا گول بنائی ہے اور گول چیز میں گھومنے کی زیادہ صلاحیت موجود ہوتی ہے۔   آپ اگر کسی سے کوئی بھلائی کرتے ہیں تو اس کا صلا بھی آپ کو گھوم کر مل جاتا ہے۔ اور اگر آپ کسی سے کوئی برائی کرتے ہیں تو وہ بھی کہیں سے گھوم پھر کر آپ سے بدلہ لے لیتی ہے۔   آپ مانیں یا نہ مانیں مگر یہ سچ ہے کہ آپ کا دیا ہوا دھوکا کسی کے درد کا سبب بنتا ہے تو آپ کو بھی کسی نہ کسی سے دھوکہ ضرور ملتا ہے۔   میرا وطن، میرے وطن کے لوگ اور میرے وطن کا کاروبار منافقی، غیر ذمیداری، بداخلاقی اور بےایمانی سے عروج پر ہے۔   آپ جو چیز مارکیٹ میں خریدتے ہیں اس پر اگر چٹ Made in China لگی ھو تو آپ آسانی سے خرید لیتے ہیں۔   ہاں یہ الگ بات ہے کے میرے ملک میں چھوٹے اور بڑے ایسے بھی کارخانے ہیں جو کہ چیزیں بنارہے ہیں مگر بیچ رہے ہیں Mad in China کی چٹ لگا کر۔   کیونکہ ہمیں اپنوں پر اعتبار نہیں ہے اور نہیں تھا اور نہ جانے یہ اعتبار کب اور کیسے ہوگا؟   جی جناب! اگر وہ ہی چیز آپ Made in Japan خرید رہے ہیں تو آپ آنکھیں بند کر...

کون کہتا ہے آپ معذور ہیں؟

  کون کہتا ہے آپ معذور ہیں؟   آپ مانیں یا نا مانیں مگر یہ سچ ہے کہ آپ معذور نہیں ہیں۔ آپ تو صرف پولیو کی وجہ سے اپنی 2 ٹانگوں کا سہارا کہو بیٹھے ہیں۔ مگر آپ وہ ہمت والے انسان ہیں جن کی ٹانگیں کام نہیں کرتیں جن سے چل پھر نہیں سکتے۔ مگر آپ کے پاس دماغ اور دوسرے اعضاء تو صحیح سلامت ہیں۔ پھر اللہ رب کریم کا شکر ادا کریں اورآجائیں اس میدان میں جہاں پر آپ کو چلنے کے لئے ٹانگوں کا سہارا نہیں چاہئے۔ بلکہ آپ کو لگن، جستجو اور کچھ کر دکھانے کی آرزو ہو۔ بس اتنا سا کام ہے پھر دیکھیں آگے اور پیچھے ہوتا ہے کیا کیا؟؟؟ آپ کرسی پہ بیٹھتے ہیں اور وہیل چیئر پر چلتے ہیں اور پھر یہ کام آپ کے لئے ہی ہے۔ آپ نے گدھا تو دیکھا ہوگا، اگر نہیں دیکھا تو آج ہی جائیں کسی گدھے کو دیکھیں اور ایک لسٹ بنائیں کہ گدھے کے پاس کیا کیا نہیں ہے پھر بھی وہ گدھا ہے۔ ارے بھئی گدھے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بڑا محنتی جانور ہے۔ مگر اس کی قدر نہیں کیونکہ یہ گدھا ہے۔ آپ انسان کو یہ کہتے ہوئے سنیں گے کہ میں گدھا تھوڑی ہوں کہ یہ کام کروں یا وہ کام کروں۔ ہاں جی تو آپ انسان ہیں اور انسان بننے کی کوشش کریں اسی میں ...