ڈالر والی مرغی
آپ جو انڈے خریدتے ہیں ان کے دو کلر ہوتے ہیں۔
سفید انڈا ہو تو وہ ولایتی مرغی کا ہوگا اور ہلکا اورینج ہو تو وہ دیسی ہوگا۔ انڈہ
سفید ہو یا اورینج ہو مگر قدرت کے رنگ بھی بڑے نرالے ہیں۔
سوچیں! اگر یہ ہی انڈہ باہرسے ہلکا
کالے رنگ کا ہوتا تو آپ میں سے بہت سارے لوگ اس کو خریدنے اور کھانے میں جھجھکچاہٹ
محسوس کرتے یا تو بہت سارے کھاتے ہی نہیں۔
اس لئے قدرت کی ہر پیکنگ پر دھیان دیں۔ بالخصوص وہ افراد جن کا کام
ڈزائیننگ اور رنگوں سے وابستہ ہے۔ اسکے بعد آپکو اپنا کام آسان لگے گا۔ اللہ کریم
کا شکر ادا کریں اور پھر اپنے کام کو خوبصورت طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔
اللہ رب کریم نے قرآن حکیم کی مشہور و معروف سورہ رحمان کی حکمت بھری
آیت میں ہی فرمایا ہے "تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو
جھٹلاؤ گے؟"
آپ کسی دکان پر انڈے خریدنے جاتے ہیں تو دکاندار
کو کہتے ہیں بھیہ "ایک درجن انڈے دو" اور دکاندار آپکو خوشی خوشی انڈے
دے دیتا ہے۔ مگر اس جملوں کی لین دین میں آپ دکاندار سے کیا کہہ رہے ہیں اور وہ
آپکو جوچیز خوشی خوشی دے رہا ہے وہ اس کے اپنے تو نہیں ہیں نا جو وہ دے رہا ہے۔
ذرہ کبھی تجربہ کرکے دیکھیں کہ کسی دن بڑے غصے
سے دکاندار کو جاکر کہیں ایک انڈا دو تب بھی وہ آپکو خوشی خوشی انڈے دے دیتا ہے
مگر وہ ہوتے مرغی کے ہیں کیونکہ انسان انڈے نہیں بچے دیتا ہے اور بچے دینا مادہ کا
کام ہے نر بیچارہ تو نر ہی ہے بھلا کیا کرسکتا ہے۔
ہم اس وقت جو بھی خریداری کرتے ہیں تو ہمارا
دھیان قیمت پر ضرور جاتا ہے۔ یہ جنوری کا مھینہ ہے اور سردی کا موسم ہے۔ اور اس
موسم میں انڈے آپکو ڈالر کی قیمت کے حساب سے ملیں گے۔ آپ دو انڈے خریدیں تو ایک
عدد لال نوٹ جسے آپ سو روپیہ کہتے ہیں وہ آپکی جیب میں سے اڑ کر دکاندار کی دراز
میں ایسے چلا جائے گا کہ آپ دیکھتے رہ جائیں گے۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ سوال نہیں کرتے اور
اس سوال نہ کرنے کی وجہ سے آپکو روزانہ نئی مشکلاتیں دیکھنی پڑتی ہیں اور آپ وہ
مشکلات حل کرتے ہیں تو دوسری نکل آتی ہیں اور یوں ہی زندگی گذر رہی ہے۔
صاحب کیا کیجئے اگر دکاندار سے پوچھیں تو وہ کہے
گا کہ جناب ڈالر بڑھ رہا ہے اس لئے قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ذرا سوچیں کہ مرغی آپ کے
علائقے کی ہے یا آس پاس کے شہر کی ہے تو پھر انڈہ جناب اتنا مہنگا کیوں ہوجاتا ہے۔
کیا مرغی امریکہ سے آتی ہے اور انڈہ دے کر پھر
واپس چلی جاتی ہے اور انڈہ نایاب ہوکر ڈالرکی قیمت بولنے لگتا ہے۔ میاں ہمیں تو
سمجھ میں نہیں آتا ہاں اگر آپ کو سمجھ آجائے تو ہمیں ضرور واٹس ایپ پر سمجھا دیجئے
گا۔ اب یہ مت کہیے گا کہ اگر انٹرنیٹ صحیح چلا تو آپ کو معلومات وقت پر مل جائے گی
ورنہ انتظار کیجئے گا۔
انڈہ انڈہ ہوتا ہے، بندہ بندہ ہوتا ہے اور ڈالر
ڈالر ہوتا ہے۔ آپ ایک عدد انڈہ، ایک عدد ڈالر اور ایک عدد بندہ ایک ساتھ بٹھا کر
دیکھیں اور پھر غور و فکر کرنا شروع کریں کہ ان میں سے سب سے پہلے اس دنیا میں کون
آیا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں