حاجی پھر بھی نہ بن سکے
میرے ملک کے لوگ عجیب روایتوں میں دھنسے ہوئے
ہیں۔ ذرا ان کو کسی مضمون پر چھیڑ کر تو دیکھیں پھر پتہ لگے گا کہ ان کے پاس کتنا
علم ہے اور دوسرے ملکوں کے باشندوں کے پاس کیا ہے؟
آپکو ہر محلے یا گلی کی چوکھٹ پر بیٹھے بوڑھے
اور جوان کسی نہ کسی بحث میں مبتلا ضرور دکھائی دیں گے اوراس بحث کا نتیجہ گھوم
پھر کر یہ نکلے گا کہ ہمارے حکمران نا اہل ہیں۔
ہاں یہ دوسری بات ہے کہ ہم سارا کا سارا
قصورحکمرانوں پر چھوڑ دیتے ہیں اور خود وہیں کے وہیں ہی کھڑے رہتے ہیں۔
کہا تو یہ جاتا ہے کہ حکمران مغرب میں بڑے بڑے
محل بنواتے ہیں اورملک کی جمہ پونجی یہاں سے لے جاتے ہیں اور بدلے میں ان کی
اولادیں عوام پر حکومت کرتی ہیں پھر جب وہ بھی بزرگ ہونے لگتے ہیں تو ملک چھوڑ کر
چلے جاتے ہیں اور یوں ہی یہ سلسلہ گذشتہ 75 سالوں سے شاد و آباد ہے۔
میرے ملک سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں فریضہ
حج ادا کرنے کے لئے حاجی صاحبان سعودی عرب جاتے ہیں۔ اس وقت حج ادا کرنے میں کتنی
رقم لگتی ہے وہ آپ حاجیوں سے ہی معلوم کرلیں توبہتر رہے گا۔
آپ کتنا خرچہ کرکے جاتے ہیں اور وہ رقم کہاں سے
لاتے ہیں یہ آپ جانیں اور آپ کا کام جانے۔ ہم جو جانتے ہیں وہ آپ کو بتاتے ہیں۔
اور جو آپ جانتے ہیں وہ آپ دوسروں کو بتائیں۔
حج کا بہت بڑا اجتماع ہمیں اسلام کا فریضہ ادا
کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بہتری کے لئے کیسے ممکن کوشش کی جائی جیسی روایات
اور بھائی چارہ بھی سکھاتا ہے۔
مگر ہمارے حاجی صاحبان چلے جاتے ہیں اور چلے آتے
ہیں۔ کیا پایا کیا کھویہ، کیا سیکھا کیا نہیں سیکھا اس میں نہ ان کا آئے اور نہ ہی
جائے۔
ہمارے بہت سارے حاجی صاحبان حج کرکے آنے کے بعد
جو فرائض سرانجام دیتے ہیں وہ کبھی کبھی ناقابل برداشت ہوتے ہیں اور عوام الناس کے
منہ سے آپکو اکثر یہ سنتے ہوئے ملے گا کہ "آپ تو حاجی صاحب ہیں کچھ خیال
کریں"
مگرحاجی صاحب کہاں مانتے ہیں اور کبھی کبھی کبار
یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ بھائی اپنے پیسوں سے حج کیا ہے کیا تمہارے پیسوں سے تھوڑی
حج کیا ہے۔
اس کشمکش میں ہماری جیب تو ترقی کر رہی ہے مگر
ہمارا ملک ترقی نہیں کر پا رہا ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ ایک دوسرے کا مشکل وقت میں
ساتھ نہ دینا ہے۔
حج کا مقدس فریضہ حاجی صاحب کو انسان بنانے میں بھی بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے۔
آپکو حج کے دوران کون کون سی مشکلات کا سامنہ کرنا پڑتا ہے۔ آپ صبر، تحمل، برداشت،
ایک دوسرے کا ساتھ دینا اور بہت ساری مشکلات سے بچ سکتے ہیں۔
آپ حاجی تو بن جاتے ہیں مگر مانیں یا نا مانیں
ہم میں سے بہت سارے حاجی پھر بھی نہیں بن پاتے۔
آپ حاجی بننے کی بھرپور کوشش کریں باقی
مددگاراللہ کریم ہے۔
Bhtreen jwab sain hajeen khy.👍
جواب دیںحذف کریں