ماں نے کہا پارو کو چھوڑ دے
آپ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا ہے اور وہ جگہ
10 کلومیٹر دور ہو تو پھر آپ یقینن پیدل نہیں جائیں گے۔
ہاں اگر آپ کے پاس اپنی موٹر سائیکل یا کار
وغیرہ ہے تو پھر سفر آسان رہے گا۔
دوسری صورت میں آپ کریم، اوبر یا بائیکیا جیسی
سروس کو استعمال کرتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچیں گے۔
آپ نہ تو گدھا گاڑی پر جائیں گے اور نہ ہی کھوتا
گاڑی کا استعمال کریں گے اور نہ ہی گھوڑا گاڑی پر سفر بخیر کریں گے۔
کیونکہ یہ بھی کسی دور کی شاہانہ سواریاں تھیں مگر
اس وقت ان کا استعمال صرف دیہات میں ہوتا ہے وہ بھی صرف 5 فیصد باقی یا تو اپنی
موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں یہ چنگچی نے سارا پلڑا ہی پلٹ کر رکھ دیا ہے۔
میں ایک فری لانسر رائیٹر ہوں جس کو اپنی روزی
روٹی کا سفر انٹرنیٹ کے ذریعے سے کرنا پڑتا ہے مگر میرے ساتھ بہت سارے ایسے فری
لانسر ہیں جن کو اس وقت انٹرنیٹ کنیکشن میں شدید دشواری کا سامنہ ہے۔
اور ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ آپ نئے دور کو
چھوڑیں آپ کار پر سفر کرنے کی بجائے گدھہ، گھوڑا گاڑی وغیرہ کا استعمال کریں کیونکہ یہ ماحول
دوست ہیں۔
اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ میاں اگر گدھ گھوڑا
نہیں خرید سکتے تو ملک کے کسی بینک سے قرض پر سائیکل ہی خرید لو۔ ہاں اگر آپ کو
واقعی ملک اور اپنے سے پیار ہے تو آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
اب آپ بتائیں کہ ہم کریں تو کیا کریں اور جائیں
تو کہاں جائیں۔ دنیا فور جی سے آگے جا رہی ہے فائیو جی کی حد کو چھو رہی ہے۔ اور ہمیں
اپنے دوست خمیسو کو فون کر کے پوچھنا پڑتا ہے کہ "خمیسہ تمہارے پاس نیٹ چل
رہا ہے" خمیسہ بڑی دبی سی آواز میں کہتا ہے "نہیں یار بہت سلو چل رہا ہے
بس بیٹھے ہیں آس لگائے"۔
میرے ایک کزن ہیں جو کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ایک
گرافکس ڈرائینر بن گئے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ای میل کا کام کیسے کرتے ہو تو
بتانے لگے۔ "میں ایک فائل کو اٹیج کر دیتا ہوں اور پھر دوسرے کام کر رہا ہوتا
ہوں وہ نیٹ اپنا زور لگا کر ای میل کر رہا ہوتا ہے اور میں مزے سے دوسرے کام بڑے
غور و فکر سے سر انجام دے رہا ہوتا ہوں۔ اتنی دیر میں میل ہوجاتی ہے"
میں اس وقت ایک غیر ملکی ادارے سے ملنے والی
انگریزی زبان کو بہتر بنانے کے لئے ایک ادارے کی جانب سے 3 ماہ کی انگریزی کورس
میں ایک شاگرد کی حیثیت سے ٹریننگ لے رہا ہوں۔
وہاں پر ہمیں ادارے کی جانب سے 16 ایم بی کا نیٹ
کنیکشن کی فراہمی مفت میں دی گئی ہے اور ہم نے یہ سوچا کہ مفت کے مزے لوٹیں گے مگر
کیا کیجئے سائیں وہ کنیشکن کبھی پیدل چلتا ہے، کبھی بچے کی طرح چلتا ہے اور کبھی
گدھا، گھوڑا اور سائیکل بن جاتا ہے۔
ہماری بس اتنی سی خواہش ہے کہ یہ نیٹ سائیں موٹر
سائیکل کی رفتار سے ہی چلے تو ہم اس میں بھی خوش ہیں کہ چلے تو کٹ ہی جائے گا یہ
سفر آہستہ آہستہ۔ مگر جب یہ رک جاتا ہے تو سچ پوچھیں دل کی دھڑکن رک جاتی ہے کہ اب
تیرا کیا ہوگا کالیا، ٹھاکر تو گیو۔
بس جی پھر کیا کریں نیٹ فیض احمد فیض کی غزل کی
طرح گن گنانا شروع کرتا ہے کہ " مجھ سے پہلی سی اسپیڈ میرے فری لانسر نہ
مانگ، اور بھی دکھ ہیں زمانے میں نیٹ کے سوا"۔
اسکے بعد آپ کو بہت سارے ایسے خیال آئیں گے کہ
جیسے آپ دیوداس ہیں اور فری لانسنگ پارو ہے اور آپ کے گھر والے آپ کی ماں ہیں جن
کا بے حد اسرار رہا گا کہ فری لانسنگ چھوڑ دے۔
مگر آپ سے مؤدبانہ اور ادبانہ ہاتھ جوڑ کر گذارش
ہے کہ ہار نہ مانیں اور لگاتار کہتے رہیں میں نہ مانوں ہار اور اپنے کام پر دھیان
دیں۔ ہوسکے تو ایک عدد درخواست حکومت کو لکھیں جس میں اپنی کہانی بیان کریں ہو
سکتا ہے کہ رحم کی نظر کرم ہو اور آپ کا یہ کام آپ کے لئے جزائے خیر اور دوسروں کے
لئے باعث روزی روٹی بن جائے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں