نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سر آپ کرسی پر بیٹھیں

 سر آپ کرسی پر بیٹھیں

 


ترقی یافتہ ممالک میں موٹر سائیکل جس کو آپ بائیک بھی کہتے ہیں کو شاھانہ سواری کہا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں ہم یا تو بڑی گاڑی خرید نہیں  سکتے اور خرید سکتے ہیں تو پھر ٹریفک کی بدترین صورتحال کی وجہ سے بہت سارے لوگ بائیک کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

میں بھی بائیک کو زیادہ ترجیح دیتا ہوں کہ سائیں تھوڑی سی جگہ ملی بون بون کرکے نکل جائیں گے۔ اور واقعی نکل جاتے ہیں بس آنے والی موسم سرمہ میں تھوڑی سی پریشانی ہوتی ہے جب بندہ ٹریفک میں پھنس جاتا ہے۔

کل جیسے ہی میں لنچ کے لئے بائیک پر نکلا تو دیکھا کہ اگلے ٹائر میں ہوا کم لگ رہی ہے اور جیسے ہی بائیک پر میری تشریف آوری ہوئی تو ٹائر آہستہ سے اور نیچے ہونے لگا۔

میں سمجھ گیا کہ یہ جناب پنکچر ہونے کو جا رہا ہے چلو بھاگو جلدی سے پنکچر والے کے پاس پہنچو ورنہ میں پنکچر ہو جاؤں گا۔

میں خیر و خوبی سے ٹائر پنکچر کی دکان پر پہنچ گیا۔ دکاندار نے سلام کیا اور میرے پوچھے بغیر کہ کیا ہوا ہے؟ بائیک کو بڑے اسٹینڈ پر کھڑا کیا اور ٹائر کو کھولنے کے لئے سامان ساتھ میں رکھے۔

مجھے اُس نے ایک پرانی سی تھوڑی ٹوٹی پھوٹی کرسی بڑے مؤدبانہ انداز میں پیش کی اور کہا "سر آپ اس پر بیٹھ جائیں"۔

میں کرسی پر بلکل ایسے بیٹھا کہ جیسے یہ اپنے باپ کی ہو۔ فورن خیال آیا کہ سائیں آپ مسافر ہو اور یہ کرسی تھوری دیر کے بعد آپ کے پاس نہیں ہوگی۔

اسکے بعد میں انسان بن گیا اور سارے دنیوی خیالات کو چھوڑ چھاڑ کر جیب سے موبائل نکالا اور نیٹ سائیں کو آن کیا اور پھر دھن دھنا دھن دھن ہوگئی۔

اگر آپ کسی چیز کا نشہ کرتے ہیں تو آپ کو بخوبی اندازہ ہوگا کہ نشے کی عادت بندے کو کیا سے کیا بنا دیتی ہے۔

اور آگر آپ نے کسی سے عشق کیا ہو تو پھر بھی آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عشق ہوجائے اور بندہ آزمایہ نہ جائے یہ ہو ہی نہیں سکتا۔

ہاں اور اگر آپ کو کسی سے محبت ہوجائے تو پھر بھی آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ محبت کیا چیز ہے۔

اس لئے ہم نشہ بھی کرتے ہیں، عشق بھی کرتے ہیں اور محبت بھی کرتے ہیں اسکے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ آپ خوب جانتے ہیں۔

میں موبائل کھول کر سیدھا بلاگ کی ایک ویب سائیٹ پر گیا اور یوں گم ہوا کہ پنکچر مکینک نے کہا سائیں گاڑی تیار ہے۔

آپ یقین کریں کہ میں روڈ کے ساتھ بلکہ روڈ پر بنی ایک کچی دکان کے باہر ہلکی سی دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا اور مجھے اپنے کام پر مگن ہونے کے بعد کسی چیز کا پتہ ہی نہیں لگا کہ روڈ پر کتنا شور ہے، کون آ رہا ہے کون جا رہا ہے۔

بس میں ہوں اور میں ہوں۔ اس لئے اپنے کام کا نشہ کریں، اس سے عشق کریں اور محبت سے اور خوبصورت انداز سے اپنے کام کو ترتیب دیں۔

آسائشیں اور سہولتیں ڈھونڈیں گے تو پھر دنیا کے ساتھ نہیں چل پائیں گے۔ اور اگر فخر کریں گے کہ میں اتنا بڑا آدمی سڑک پر ایک ٹوٹی ہوئی کرسی پر کیسے بیٹھوں تو یہ یقین جانیں دنیا آپ کو جلدی بھلا دی گے۔

وقت کا قدر کریں اور ملنے والے وقت کو اپنے کاموں میں سرف کریں دنیا کیا کہے گی کو چھوڑ دیں اور یہ کہیں کہ ہمت ہے تو کراس کر ورنہ برداشت کر سائیں۔

جانے سے پہلے ایک بات ذہن نشین رکھیں کہ کرسی کوئی بھی ہو وہ آپ کی نہیں ہے یہ امانت ہے اور یہ آپ کی ذمیواری ہے کہ آپ اس کرسی کا برہم کتنا رکھتے ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

وہ دودھ آپکا نہیں تھا

  وہ دودھ آپکا نہیں تھا ہم جس دودھ والے سے دودھ خریدتے ہیں وہ اصل میں دودھ والا نہیں ہے مگر حالات کی وجہ سے دودھ بیچ رہا ہے۔   اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آپکی روزی کہیں نہ کہیں ضرور لکھی ہوئی ہے۔ ہاں اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپکو اپنی روزی کو حلال کرکے کمانا چاہتے ہیں یا حرام کماکر کھانا چاہتے ہیں۔   ہمارے دودھ والے کی تو کوئی بھی بکری، گائے اور نہ ہی بھینس اپنی ہے۔ اسکی اپنی ہے تو وہ صرف ایک عدد بائیک ہے جس پر یہ جناب مختلف چھوٹے دیہاتوں و جگہوں سے کیش رقم پر دودھ خرید کر شہر میں ادھار پر یا کیش رقم پر دودھ فروخت کرتا ہے۔   آپ اس کو اپنی زبان میں Affiliate Marketing بھی کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ اپنی کوئی انویسٹمنٹ کئے بغیر مختلف جگہوں سےدودھ لیتے ہیں اور اس پر اپنا منافعہ رکھ کر دودھ بیچ دیتا ہے یا بھیج دیتا ہے۔   ہم جو دودھ خریدتے ہیں وہ گائے کا دودھ ہوتا ہے۔ وہ اس لیئے کہ سب سے بہترین دودھ بکری کا ہے پھر گائے کا ہے پھر بھینس کا ہے۔   یہ تفریق صحت کے اصولوں کے تحت غذائی ماھرین نے بنائی ہے۔ بکری کا دودھ غذائی اعتبار سے بہت مفید ہے۔ ...

دکھائی قطرینہ بھیجی حکیماں

دکھائی قطرینہ بھیجی حکیماں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا گول بنائی ہے اور گول چیز میں گھومنے کی زیادہ صلاحیت موجود ہوتی ہے۔   آپ اگر کسی سے کوئی بھلائی کرتے ہیں تو اس کا صلا بھی آپ کو گھوم کر مل جاتا ہے۔ اور اگر آپ کسی سے کوئی برائی کرتے ہیں تو وہ بھی کہیں سے گھوم پھر کر آپ سے بدلہ لے لیتی ہے۔   آپ مانیں یا نہ مانیں مگر یہ سچ ہے کہ آپ کا دیا ہوا دھوکا کسی کے درد کا سبب بنتا ہے تو آپ کو بھی کسی نہ کسی سے دھوکہ ضرور ملتا ہے۔   میرا وطن، میرے وطن کے لوگ اور میرے وطن کا کاروبار منافقی، غیر ذمیداری، بداخلاقی اور بےایمانی سے عروج پر ہے۔   آپ جو چیز مارکیٹ میں خریدتے ہیں اس پر اگر چٹ Made in China لگی ھو تو آپ آسانی سے خرید لیتے ہیں۔   ہاں یہ الگ بات ہے کے میرے ملک میں چھوٹے اور بڑے ایسے بھی کارخانے ہیں جو کہ چیزیں بنارہے ہیں مگر بیچ رہے ہیں Mad in China کی چٹ لگا کر۔   کیونکہ ہمیں اپنوں پر اعتبار نہیں ہے اور نہیں تھا اور نہ جانے یہ اعتبار کب اور کیسے ہوگا؟   جی جناب! اگر وہ ہی چیز آپ Made in Japan خرید رہے ہیں تو آپ آنکھیں بند کر...

کون کہتا ہے آپ معذور ہیں؟

  کون کہتا ہے آپ معذور ہیں؟   آپ مانیں یا نا مانیں مگر یہ سچ ہے کہ آپ معذور نہیں ہیں۔ آپ تو صرف پولیو کی وجہ سے اپنی 2 ٹانگوں کا سہارا کہو بیٹھے ہیں۔ مگر آپ وہ ہمت والے انسان ہیں جن کی ٹانگیں کام نہیں کرتیں جن سے چل پھر نہیں سکتے۔ مگر آپ کے پاس دماغ اور دوسرے اعضاء تو صحیح سلامت ہیں۔ پھر اللہ رب کریم کا شکر ادا کریں اورآجائیں اس میدان میں جہاں پر آپ کو چلنے کے لئے ٹانگوں کا سہارا نہیں چاہئے۔ بلکہ آپ کو لگن، جستجو اور کچھ کر دکھانے کی آرزو ہو۔ بس اتنا سا کام ہے پھر دیکھیں آگے اور پیچھے ہوتا ہے کیا کیا؟؟؟ آپ کرسی پہ بیٹھتے ہیں اور وہیل چیئر پر چلتے ہیں اور پھر یہ کام آپ کے لئے ہی ہے۔ آپ نے گدھا تو دیکھا ہوگا، اگر نہیں دیکھا تو آج ہی جائیں کسی گدھے کو دیکھیں اور ایک لسٹ بنائیں کہ گدھے کے پاس کیا کیا نہیں ہے پھر بھی وہ گدھا ہے۔ ارے بھئی گدھے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بڑا محنتی جانور ہے۔ مگر اس کی قدر نہیں کیونکہ یہ گدھا ہے۔ آپ انسان کو یہ کہتے ہوئے سنیں گے کہ میں گدھا تھوڑی ہوں کہ یہ کام کروں یا وہ کام کروں۔ ہاں جی تو آپ انسان ہیں اور انسان بننے کی کوشش کریں اسی میں ...