نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

گرافکس ڈزائنگ اور ڈرائینگ کا رشتہ

 گرافکس ڈزائنگ اور ڈرائینگ کا رشتہ


ہماری پرائمری اسکول کی تعلیم میں جن استاذہ کا کردار شامل تھا ان میں سے سر عبداللہ شیدی ایک نامور شخصیت کے مالک تھے۔ ہمیں ان سے جو کچھ سیکھنے کو ملا ان میں سے ڈرائینگ سب سے اول تھی۔ مگر بہت سارے طلبہ ڈرائینگ کے مضمون کو شوق سے نہیں صرف کھیل کیلئے استعمال کرتے تھے۔

سر عبداللہ کی پوری کوشش تھی کہ جتنا ہو سکے اتنا بچوں میں ڈرائینگ کا شوق پیدا کیا جائے۔ مگر سوال یہ آتا ہے کہ بڑے ہوکر کیا بنو گے۔ ہمارے ہاں تو جواب ملتا ہے ڈاکٹر یا انجنیئر تو صاحب 35 سال پہلے بھی یہ ہی دور تھا اور اب بھی یہی دور ہے۔ نہ بدلا ہے تو ہماری سوچ نہیں بدلی۔ دنیا بدلی تو ہم کیا کریں صاحب ہم کو تو ہم ہی سے کام ہے۔

اس وقت ہم کلاس میں تقریبن 40 شاگرد ہوتے تھے جن میں لڑکیاں اور لڑکے دونوں ساتھ تھے۔ اتنی تعداد میں صرف 3 بچوں کی ڈرائینگ بہتر ہوتی تھی اور ان کو کام کرنے کا شوق ہوتا تھا۔ باقی 37 میں سے 1 میں اور 1 دوسرا دوست ہوتا تھا جو کہ ڈرائینگ میں تھوڑی بہت دلچسپی رکھتے تھے باقی 35 صاحب لوگ تھے۔

میں اُن استاد صاحب کا بہت شکر گذار ہوں جنہوں نے اپنی لگن سے ہمیں ڈرائینگ کا ہنر سکھایا اور یہ آج میری روزی روٹی کا سبب بھی ہے۔

اب میرے ساتھ چلیں 2005 میں جہاں پر جو کچھ بھی تھا وہ آپ تاریخ کی کتابوں سے پڑھیں اور سیکھ سکتے ہیں مگر ایک بات ضرور ہے کہ ہم نے کھویا بہت کچھ ہے اور پایا بہت کم ہے۔

یہ دور تھا جہاں پر میرے بدین جیسے چھوٹے شہر میں مجھ سمیت بہت سارے ایسے ڈرائینگ جاننے والے تھے جن کو گرافکس ڈزائینگ کے نام کا بھی پتہ نہیں تھا۔

یہ کس کا قصور تھا وہ آپ تحقیق کرکے خود معلوم کرلیں کہ اصل ذمیوار کون ہے۔ ذمیواری اور بیداری بہت بڑی نعمتیں ہیں مگر ہم اپنے آپ کو اس نعمت سے چاہتے ہوئے بھی محروم رکھے ہوئے ہیں۔

میں اُس وقت اپنی فیملی کا پرنٹنگ کاروبار سنبھالتا تھا اور کاروباری سلسلے میں  میرا حیدرآباد آنا جانا رہتا تھا۔ وہاں پہنچ کر جب میں اپنے کاموں سے فارغ ہوتا تھا تو اس وقت پرنٹںگ کی مارکیٹ میں نامی گرامی گرافکس ڈزائینر ہوتے تھے ان کو مقامی زبان میں  "کمپیوٹر آپریٹر" کہا جاتا تھا۔ اُن کو بھی گرافکس ڈزائینر کا کچھ پتہ نہیں ہوتا تھا کہ گرافکس ڈزائینر کون سی بلا ہے۔

آپ کو حیرانی ہوگی یہ پڑھ کر کہ میں نے اس وقت کے ایک مشہور ڈزائینر صاحب سے بات کی کہ مجھے ڈزائینگ کا کام سیکھنا ہے تو آپ کیا سکھائیں گے؟ اور کیسے سکھائیں گے؟

اُس ڈزائینر نے کہا ہاں اسٹول رکھ کر میرے ساتھ بیٹھ جاؤ دیکھتے جاؤ میں کیا بنا رہا ہوں۔ ان کا مزید کہنا بہت حیرت ہے کہ "ارے بھائی آپ کو کوئی بھی ڈزائین بنانی ہے تو آپ کسٹمر کے حساب سے بناؤ گے۔ اس کا ہلیہ اور چہرہ دیکھ کر آپ اندازہ لگاؤ کے یہ بندہ کون سی ڈزائین مانگ رہا ہے"۔

اب آپ ہی بتائیں بندہ کسٹمر کو دیکھ کر بھلا کیسے ڈزائین بناتا ہوگا۔ شاید وہ ایسے کام کرتے ہونگے بندہ حلالی ہے تو ڈزائین سادہ اور اگر بندہ حرامی ہے تو ڈزائین ڈسکو ہوگی۔ جو مجھے سمجھ میں آیا ہے وہ تو یہ ہے زیادہ وہ ہی بتا سکتے ہیں کہ کیسے ڈزائین بناتے تھے۔

آپ کے ذہن میں یہ سوال ضرور ہونگے:

کیا گرافکس ڈزائینر بننے کے لئے ڈرائینگ سیکھنا ضروری ہے؟

جی ہاں! گرافکس ڈزائینر بننے کے لئے سب سے پہلے ڈرائینگ سیکھنا ضروری ہے۔ یہ بلکل اس طرح ہے جیسے ڈاکٹر بننے کے لئے آپ کو پہلے ایم بی بی ایس کی ڈگری مکمل کرنی ہوتی ہے۔ آپ کو چاہیئے کے6 مہینوں تک ڈرائینگ کے کسی اچھے کورس کو سیکھیں۔ اپنی اسکیچ بک بنائیں اور روزانہ کی بنیاد پر کچھ نہ کچھ بنا کر رکہتے جائیں۔

کیا اپنا ذاتی لیپ ٹاپ ہونا ضروری ہے؟

جی ہاں! اپنا ذاتی لیپ ٹاپ بھی ہونا ضرور ہے۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ آپ شروعات میں ہی مہنگا لیپ ٹاپ خریدیں۔ آپ کوئی سا بھی ایسا لیپ ٹاپ خریدیں جس میں آپکی جیب آپ کو آسانی سے اجازت دے اور آپ اس کو خرید کر اپنی روزی روٹی کا سبب بنائیں۔

آپ کے پاس اپنا لیپ ٹاپ ہوگا تو آپ اگر کسی ادارے میں گرافکس ڈزائیننگ کا کورس کر رہے ہیں تو آپ کو اپنے گھر آکر پریکٹس کا بہترین موقعہ ملے گا اور اگر آپ کسی آن لائین کورس میں موبائل سے سیکھ رہے ہیں تو بھی آپ کو اپنا لیپ ٹاپ ہی بہتر رہے گا۔

گرافکس ڈزائینر بننے کے لئے کتنا وقت چاہیئے؟

آپ نے اگر 6 مہینے تک ڈرائینگ پر اچھی محنت اور مشق کی ہے اور اسکے ساتھ اپنے لیپ ٹاپ پر ایڈوبی الیوسٹیٹر، ایڈوبی فوٹ شاپ کو باآسانی سے استعمال کرنا جان گئے ہیں تو پھر آپکو مبارک ہو آپ ایک ننھے منے سے گرافکس ڈزائینر بن گئے ہیں۔

لوکل مارکیٹ میں کام کیسے ڈہونڈیں؟

آپ کے شروعاتی 6 مہینے تو لگ گئے ڈرائینگ اور گرافکس کو پڑھنا سیکھنا اور چھوٹا موٹا کچھ بنا کر دیکھنا اور دکھانا۔ اب آپ کسی لوکل مارکیٹ کی دکان پر جائیں اور اسے چھوٹی سی آفر دیں کہ میں آپکو مناسب پیسوں میں بہتر سے بہتر ڈزائین بناکر دوں گا اور ہاں اگر آپ ورک فرام ہوم والی سروس کی بھی آفر کریں تو یہ بھی آپ کے لئے موزون ہے۔

لوکل مارکیٹ میں آپ کم از کم 6 مہینوں تک متھا ماری کریں یہ آپ کو بہت کچھ سکھا دی گی۔ آپ کو روز نئے نئے ڈزائین بنانے کو ملیں گے اور نئی نئی ترکیبین حلالی اور حرامی دونوں ملیں گے۔ آپ اپنے کام کو ایمانداری اور وقت کی پابندی کے ساتھ کریں باقی لوگ کیا کر رہے ہیں اس کو چھوڑ دیں۔

انٹرنیشنل مارکیٹ میں کام کیسے ڈہونڈیں؟

آپ کو اس پورے مرحلے میں ایک سال کا عرصہ لگانا ہوگا۔ اس کے بعد آپ کو ایک قدم آہستہ سے اٹھا کر انٹرنیشنل مارکیٹ میں رکھنا ہوگا۔

سب سے پہلے آپ اپنا لنکڈان اکاؤنٹ بنائیں اور اس کو جتنا ہوسکے پروفیشنل بنائیں اور روزانہ کی بنیاد پر آپ کا پچھلا بنایا ہوا کام رکھتے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لنکڈان کی پروفائیل میں اپنا پورٹ فولیو بنا کر رکھیں۔

جس کے ذریعے اپلائی فار جاب پر بھی فلٹر لگائیں۔ اور جیسے ہی کوئی باہر کی کمپنی کوئی جاب آفر کرتی ہے تو آپ اس کو دماغ کی ساری بتیاں کھول کر غور سے پڑھیں پھر اپلائی کردیں۔

آپ کا کام اپلائی کرنا ہے نہ کہ یہ سوچنا کہ جاب نہیں ملتی۔ آپ شوق اور لگن سے اپنے کام کو جاری و ساری رکھیں اور ہمت نہ ہاریں۔

   

  

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

وہ دودھ آپکا نہیں تھا

  وہ دودھ آپکا نہیں تھا ہم جس دودھ والے سے دودھ خریدتے ہیں وہ اصل میں دودھ والا نہیں ہے مگر حالات کی وجہ سے دودھ بیچ رہا ہے۔   اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آپکی روزی کہیں نہ کہیں ضرور لکھی ہوئی ہے۔ ہاں اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپکو اپنی روزی کو حلال کرکے کمانا چاہتے ہیں یا حرام کماکر کھانا چاہتے ہیں۔   ہمارے دودھ والے کی تو کوئی بھی بکری، گائے اور نہ ہی بھینس اپنی ہے۔ اسکی اپنی ہے تو وہ صرف ایک عدد بائیک ہے جس پر یہ جناب مختلف چھوٹے دیہاتوں و جگہوں سے کیش رقم پر دودھ خرید کر شہر میں ادھار پر یا کیش رقم پر دودھ فروخت کرتا ہے۔   آپ اس کو اپنی زبان میں Affiliate Marketing بھی کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ اپنی کوئی انویسٹمنٹ کئے بغیر مختلف جگہوں سےدودھ لیتے ہیں اور اس پر اپنا منافعہ رکھ کر دودھ بیچ دیتا ہے یا بھیج دیتا ہے۔   ہم جو دودھ خریدتے ہیں وہ گائے کا دودھ ہوتا ہے۔ وہ اس لیئے کہ سب سے بہترین دودھ بکری کا ہے پھر گائے کا ہے پھر بھینس کا ہے۔   یہ تفریق صحت کے اصولوں کے تحت غذائی ماھرین نے بنائی ہے۔ بکری کا دودھ غذائی اعتبار سے بہت مفید ہے۔ ...

دکھائی قطرینہ بھیجی حکیماں

دکھائی قطرینہ بھیجی حکیماں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا گول بنائی ہے اور گول چیز میں گھومنے کی زیادہ صلاحیت موجود ہوتی ہے۔   آپ اگر کسی سے کوئی بھلائی کرتے ہیں تو اس کا صلا بھی آپ کو گھوم کر مل جاتا ہے۔ اور اگر آپ کسی سے کوئی برائی کرتے ہیں تو وہ بھی کہیں سے گھوم پھر کر آپ سے بدلہ لے لیتی ہے۔   آپ مانیں یا نہ مانیں مگر یہ سچ ہے کہ آپ کا دیا ہوا دھوکا کسی کے درد کا سبب بنتا ہے تو آپ کو بھی کسی نہ کسی سے دھوکہ ضرور ملتا ہے۔   میرا وطن، میرے وطن کے لوگ اور میرے وطن کا کاروبار منافقی، غیر ذمیداری، بداخلاقی اور بےایمانی سے عروج پر ہے۔   آپ جو چیز مارکیٹ میں خریدتے ہیں اس پر اگر چٹ Made in China لگی ھو تو آپ آسانی سے خرید لیتے ہیں۔   ہاں یہ الگ بات ہے کے میرے ملک میں چھوٹے اور بڑے ایسے بھی کارخانے ہیں جو کہ چیزیں بنارہے ہیں مگر بیچ رہے ہیں Mad in China کی چٹ لگا کر۔   کیونکہ ہمیں اپنوں پر اعتبار نہیں ہے اور نہیں تھا اور نہ جانے یہ اعتبار کب اور کیسے ہوگا؟   جی جناب! اگر وہ ہی چیز آپ Made in Japan خرید رہے ہیں تو آپ آنکھیں بند کر...

کون کہتا ہے آپ معذور ہیں؟

  کون کہتا ہے آپ معذور ہیں؟   آپ مانیں یا نا مانیں مگر یہ سچ ہے کہ آپ معذور نہیں ہیں۔ آپ تو صرف پولیو کی وجہ سے اپنی 2 ٹانگوں کا سہارا کہو بیٹھے ہیں۔ مگر آپ وہ ہمت والے انسان ہیں جن کی ٹانگیں کام نہیں کرتیں جن سے چل پھر نہیں سکتے۔ مگر آپ کے پاس دماغ اور دوسرے اعضاء تو صحیح سلامت ہیں۔ پھر اللہ رب کریم کا شکر ادا کریں اورآجائیں اس میدان میں جہاں پر آپ کو چلنے کے لئے ٹانگوں کا سہارا نہیں چاہئے۔ بلکہ آپ کو لگن، جستجو اور کچھ کر دکھانے کی آرزو ہو۔ بس اتنا سا کام ہے پھر دیکھیں آگے اور پیچھے ہوتا ہے کیا کیا؟؟؟ آپ کرسی پہ بیٹھتے ہیں اور وہیل چیئر پر چلتے ہیں اور پھر یہ کام آپ کے لئے ہی ہے۔ آپ نے گدھا تو دیکھا ہوگا، اگر نہیں دیکھا تو آج ہی جائیں کسی گدھے کو دیکھیں اور ایک لسٹ بنائیں کہ گدھے کے پاس کیا کیا نہیں ہے پھر بھی وہ گدھا ہے۔ ارے بھئی گدھے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بڑا محنتی جانور ہے۔ مگر اس کی قدر نہیں کیونکہ یہ گدھا ہے۔ آپ انسان کو یہ کہتے ہوئے سنیں گے کہ میں گدھا تھوڑی ہوں کہ یہ کام کروں یا وہ کام کروں۔ ہاں جی تو آپ انسان ہیں اور انسان بننے کی کوشش کریں اسی میں ...